ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جھارکھنڈ: نقل نویسی کے شبہ میں لباس اتارنے پر مجبور کرنے کے بعد طالبہ نے موت کو گلے لگالیا؛ ٹیچر گرفتار، ہیڈمسٹریس معطل

جھارکھنڈ: نقل نویسی کے شبہ میں لباس اتارنے پر مجبور کرنے کے بعد طالبہ نے موت کو گلے لگالیا؛ ٹیچر گرفتار، ہیڈمسٹریس معطل

Sun, 23 Oct 2022 02:19:56    S.O. News Service

جمشیدپور22/اکتوبر(ایس او نیوز) اسکول کے ٹرمنل امتحانات کے دوران نقل نویسی کے شبہ میں لباس اتارنے پر مجبورکرنے پر توہین محسوس کرتے ہوئے نویں کلاس کی طالبہ نے موت کو گلے لگالیا جس پر ایک ٹیچر کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اسکول ہیڈمسٹریس کو معطل کیا گیا ہے۔ 

میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریاست جھارکھنڈ کے جمشیدپور کی طالبہ ریتو مکھی شاردامنی گرلزاسکول کی طالبہ تھی، 14 اکتوبر کو گھر واپس ہونے کے بعد اس نے خود پر کیروسین چھڑک کر آگ لگالی تھی۔ اسے جمشیدپور کے ٹاٹا مین ہاسپٹل میں علاج کے لئے داخل کیا گیا تھا مگر چھ دن بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پولیس نے ٹیچر چندر داس کو گرفتار کرلیا ہے جس نے نقل نویسی کے لئے چھپائی گئی چٹھیاں برآمد کرنے لڑکی کو لباس اتارنے پر مجبور کیا تھا۔اسکول پرنسپل گیتارانی مہاتو کو معطل کردیاگیا ہے۔ متوفی کے بیان کے مطابق ٹرمنل امتحان کے دوران ٹیچر نے اس پر نقل نویسی کا الزام عائد کیا تھا اور سب کے سامنے تھپڑرسید کیا تھا۔

طالبہ نے اس پر احتجاج کیا تھا، جس پر ٹیچر نے اسے سب کے سامنے لباس اتارنے پر مجبور کرتے ہوئے اس کی تلاشی لی تھی۔ مگر پتہ چلا ہے کہ اس کے پاس سے کوئی چٹھیاں برآمد نہیں ہوئی۔ بعد میں اسے پرنسپل کے دفتر لیجایا گیا۔ اس واقعہ کے سبب لڑکی نے اپنی سخت توہین محسوس کی اور گھر پہنچتے ہی اس نے اپنی بہنوں کو پڑوس کے گھر بھیج دیا اورخود کو آگ لگالی۔ اسے شدید جھلسی ہوئی حالت میں اسپتال داخل کیا گیا، مگر وہ زخموں سے جانبرنہ ہوسکی۔

جمشید پور کے ڈپٹی کمشنر وجئے جادھونے طالبہ کی موت کی اطلاع ملتے ہی ہاسپٹل پہنچ کر واقعے کی جانکاری حاصل کی۔ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور  متوفی کا پوسٹ مارٹم کردیا گیا۔ چیف منسٹر ہیمنت سورین نے اس واقعہ کا نوٹ لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت دی تھی کہ وہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کو ہرممکن مدد فراہم کریں۔

طالبہ کی اقدام خودسوزی پر ہی چھایا نگر کے سینکڑوں مکینوں بشمول مکھی سماج کے ارکان نے 15 اکتوبر کو اسکول کے سامنے مظاہرہ کیا اور ٹیچر چندر داس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، بتایا گیا ہے کہ داس نے مبینہ طور پر لڑکی کو کلاس میں دیگر اسٹوڈینٹس کے سامنے ہی لباس اتارنے پر مجبور کیا تھا۔جسے اپنی  بے عزتی اورتوھین محسوس کرتے ہوئے لڑکی نے اسکول سے واپسی کے فوراً بعد شام 5 بجے کے قریب اپنے گھر پر مٹی کا تیل ڈال دیا اور خود کو آگ لگا لی۔

واقعے پرشہر کی کئی تنظیموں نےبھی احتجاج کیا اور اسکول ٹیچر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے بعد اسکول نے داس اور اسکول کی پرنسپل گیتا رانی کو معطل کردیا بعد میں داس کو جیل بھیج دیا گیا۔ ضلع انتظامیہ نے کشیدگی کو محسوس کرتے ہوئے ہاسپٹل سے لیکر شمشان گھاٹ تک سیکوریٹی فورسس کو تعینات کردیا تھاجبکہ جمعہ کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت لڑکی کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔


Share: